|
http://htxt.it/jlPL ملا نصير الدين تحریر : ڈاکٹر محمد يونس بٹ ساري دنيا انہيں پير سمجھتي ہے مگر وہ خود کو جوان سمجھتے ہيں، ديکھنے ميں سياست دان نہيں لگتے اور بولنے ميں پير نہيں لگتے، قد اتنا ہي بڑا جتنے لمبےہاتھ رکھتے ہيں، چلتے ہوئے پاؤں يوں احتياط سے زمين پر رکھتے ہيں کہ کہيں بے احتياطي سے مريدوں کي آنکھيں نيچے نہ آجائيں،اتنا خود نہيں چلتے جتنا دماغ چلاتے ہيں، دور سے يہي پتہ چلتا ہے کہ چل رہے ہيں، يہ کسي کو پتہ نہيں ہوتا آرہے ہيں یا جارہے ہيں، سياست ميں انکا وہي مقام ہے جو اردو ميں علامتي افسانے کا، خاندان کے پہلے صبغتہ اللہ اول کے سر پر پگ باندھي گئي اور وہ پہلے پاگارہ پير کہلائے، يہ بھي اس خاندان کے چشم و چراغ ہيں جس کي چشم بھي چراغ ہے، بچپن ہي سے پردے کے اس قدر حق ميں تھے کہ 1944 ميں جب کراچي ريلوے اسٹيشن سے انگلينڈ روانہ ہوئے تو پردے کي وجہ سے پتہ ہي نہيں چل رہا تھا کہ جارہے ہيں يا جارہي ہیں، 1952 ميں يوں پاکستان کو واپس آئے، جيسے پاکستان کو واپس لائے ہوں، کسي نے کہا انگلينڈ وہ جگہ ہے جہاں سب سے زيادہ دھند ہوتي ہے، کہا انتي دھند تھي کہ جگہ نظر نہ آئي۔ پہلے کالعدم مسلم ليگ کے صدر بنے، پھر مسلم ليگ کے کالعدم صدر بنے، پھر مسلم ليگ بن گئے، اس لئے اب دوڑ وہ رہے ہوتے ہيں اور سانس مسلم ليگ کي پھولنے لگتي ہے،وہ بڑے پائے کے سياست دان ہيں، جس کي ايک وجہ تو يہ ہے کہ ہمارے ہاں چھوٹے پائے کے سياست دان ہوتے ہيں نہيں، حالانکہ چھوٹے پائے مہنگے ہوتے ہيں، وہ پاکستاني سياست کي اقوام متحدہ ہيں اور اقوام متحدہ وہ جگہ ہے جہاں دو چھوٹے ملکوں کا مسئلہ ہوتو مسئلہ غائب ہوجاتا ہے، چھوٹی اور بڑي قوم کا مسئلہ ہوتو چھوٹي قوم غائب ہوجاتي ہے اور اگر بڑي قوموں کا مسئلہ ہو تو اقوام متحدہ غائب ہوجاتي ہے۔ خود کو جي ايچ کيو ميں کھڑا کرتے ہيں، جي ايچ کيو سے مراد جي حضوري کرن الگتا ہے، مسلم ليگ کے خادم نہيں خاوند ہيں اور مسلم ليگ ان کي بيوہ ہے، ان کے بيان پڑھ کر لگتا ہے، جيسے انکا تعلق محکمہ بندي سے ہے، شايد وہ اس لئے بار بار منصوبہ بندي پر زور ديتے ہيں کہ ابھي سات ماہ بھي نہيں ہوتے اور نئي مسلم ليگ کي ولادت ہوجاتي ہے۔ دورانِ گفتگو جہاں پتہ چلے کہ دوسرا ان کي بات سمجھ رہا ہے، فوراً بات بدل ديتےہيں آدھا دن وہ کہتے ہيں جو سننا چاہتے ہيں اور باقي آدھا دن وہ سنتے ہيں جو کہنا چاہتے ہيں، فقرہ يوں ادا کرتے ہيں جيسے بل ادا کرتے ہيں، جس موضوع پر دوسرے ہائے ہائے کر رہے ہوتے ہيں، يہ ہائے کہہ کر گزجاتے ہيں، کسي کي بات کي پروہ نہيں کرتے ہيں، مگر چاہتے ہيں ان کي بات کي پروا کي جائے،لوگ ان کو ملنے سے پہلے وضو کرتے ہيں، وضو تو دوسرے سياست دانوں سے ملنے والوں کو بھي کرنا پڑتا ہے، مگر ملنے کے بعد،جانوروں کي حرکتوں سے بہت محفوظ ہوتے ہيں، اس لئےکسي کي حرکت سے محفوظ ہوں تو بندہ پريشان ہوجاتا ہے کہ پتہ نہيں مجھے کيا سمجھ رہے ہيں، ان کے پاس کئي گھوڑے ہيں جو اکثر ريس اور اليکشن جيتتے رہتے ہيں، اپني تعريف سن کو خوش نہيں ہوتے، آخر بندہ چوبيس گھنٹے ايک ہي بات سن کر خوش تو نہيں ہوسکتا ہے۔ پير صاحب منفردبات کرتےہيں، اگر کوئي کہے کہ پير صاحب آپ نے ايک جو تا اتارا ہوا ہے تو کہيں گے نہيں ہم نے ايک جوتا پہنا ہوا ہے، ان کي تو چائے ميں چيني کم ہو تو کہيں گے، اس چيني ميں چائے زيادہ ہے، وہ جس کے سر پر ہاتھ رکھ ديں وہ سر پر ہاتھ رکھ ليتا ہے، جب وہ پير جو گوٹھ سے لاہور آتے ہيں تو پير جو گوٹھ بھي لاہور آجاتا ہے، ان دنوں لاہور کہا جاتا ہے؟ اسکا پکا پتہ نہي، مريد انہيں اپنے ہاتھ سے کام نہيں کرنے ديتے، اس لئے پير صاحب کے ہر کام ميں کسي اور کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ان سے حور کا مذ کر پوچھو تو شايد حر کہيں، جي ايم سيد کے بقول صاحب جھوٹ نہيں بولتے، گويا وہ پير صاحب کو سياست دان نہيں مانتے، ويسے ہر پير صاحب کے اليکشن کے نتائج سے ہميشہ يہ لگتا ہے کہ ووٹر ان کا انتخاب نہيں کرتے، يہ ووٹروں کا انتخاب کرتے ہيں، يہ وہ پير ہيں جو دن ميں اتني بار ماشااللہ نہيں کہتے جتني بار مارشل لاء کہتے ہيں، برتھ ڈے ضرور مناتے ہيں، دوسرے سياست دان شايد اس لئے نہيں مناتے کہ برتھ ڈے تو ڈے کو پيدا ہونے والے ہي مناسکتے ہيں۔ ان کي باتوں ميں اتنا وزن ہوتا ہے کہ سننے والا اپنا سر بھاري محسوس کرنے لگتا ہے ان کا ہر فقرہ کئي کئي کلو کا ہوتا ہے، فقرے تو دوسرے سياست دانوں کے بھي کئي کئي کلو کے ہوتے ہيں، جي ہاں کئی کئي کلو ميٹر کے، دوسروں کے تو بيانوں کي بھي اتنی کم سرخي نہيں لگتي جتنی کالمي سرخی ان کي خاموشي کي ہوتي ہے، ستاروں کے علم پر ايسا عبور ہے کہ فلمي ستاروں کي گردش تک پس و پيش کرتے رہتے ہيں۔ بہت اچھے کرکٹر ہيں، بحثيت امپائر کئي بار سنچرياں بنائيں۔ فوٹو گرافي کا شوق ہے کہتے ہيں ميں ہميشہ خوبصورت تصوريں بناتا ہوں، حالانکہ وہ خوبصورت کي تصويريں بناتے ہيں۔ مخالفين تک پير صاحب اس قدر احترام کرتے ہيں کہ ان کے سياسي حريف پرويز علي شاہ يہ نہيں کہتے ميں نے متعد بار پير صاحب کو ہرايا، يہي کہتے ہيں، پير صاحب نے مجھے ہر بار جتوايا۔ صحافي بھي ان سے سوال کررہے ہوں تو انہيں يوں ديکھتے ہيں جيسے پير سوالي کو۔ پير صاحب کو فرشتے بہت پسند تھے، فرشتوں ميں يہي خوبي ہے کہ وہ سوچتے سمجھتے نہيں، بس جو کہا جائے، کرتے ہيں، پير صاحب کو زميني فرشتے اليکشن ہرواتے ہيں، زمين اور آسماني فرشتوں ميں وہي فرق ہے جو زميني اور آسماني بجلي ميں ہے، آسماني بجلي وہ ہوتي ہے جس کا بل نہيں آتا۔ پير صاحب اس وقت کے تعليم يافتہ ہيں جب ايک ميڑک پڑھا لکھا آج کے دس ميڑکو کے برابر ہوتا ہے، يہي نہيں اس زمانے کا تو ايک ان پڑھ آج کے دس ان پڑھوں سے زيادہ ان پڑھ ہوتا تھا۔ پير صاحب کسي سياست دان کو سنجيدگي سے نہيں ليتے، جس کو سنجيدگي سے ليں وہ مذاق بن جاتا ہے۔ وہ اتنے شگفتہ مزاج ہيں کہ ان کے کمرے کے گلدان ميں پلاسٹک کے پودوں پر بھي پھول کھلنے لگتے ہيں۔ جبکہ ان کے مريد اور کالعدم وزيراعظم ممد خان جونيجو ايسے تھے کہ ان کے کمرے ميں تو پلاسٹک کے پھول بھي مر جھا جاتے۔ پير صاحب کي چھٹي حس جانے والے حکمرانوں کا بتاتي ہے، جب کے باقي پانچ حسيں آنے والے کا، وہ کہتے ہيں حکمرانوں کا آئين کي نہيں، آئينے کي ضرورت ہے، ٹھيک کہتے ہيں، خظاب اور زيڈال بندہ آئين کي مدد سےتو نہيں لگ سکتا۔ ان کي طبعيت ميں اتني مستقل مزاجي نہيں جتني مستقل مزاجي ہے، سنجيدہ بات کو غير سنجيدہ طريقے سے کہنا مزاح نہيں بلکہ غير سنجيدہ بات کو سنجيدہ طريقے سے کہنا مزاح ہے، سوچتا ہوں اگر سياست ميں سنجيدگي آگئي تو پير صاحب کيا کريں گے؟